ماند

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - چمک دمک سے عاری، بے آب و تاب، بے رونق، مدھم، پھیکا، اترے ہوئے رنگ کا۔  مہِ تمام ابھی چھت پہ کون آیا تھا کہ جس کے آگے تری روشنی بھی ماند ہوئی    ( ١٩٧٦ء، خوشبو، ٢٨٥ ) ٢ - چمک دمک، آب و تاب یا حسن وغیرہ میں مقابلۃً دوسرے سے کمتر یا فروتر۔ "دونوں کی نثر کی خوبی، شاعری کی شہرت اور عظمت کے مقابلے میں ماند رہی"۔    ( ١٩٨٧ء، غالب، ٩٧:٢٠١ ) ٣ - [ مجازا ]  کمزور، جوش سے خالی۔ "لڑکیو، تم سب اس کا اہتمام کرو کہ تمھاری غیرتیں اور عزتیں ماند اور مدھم نہ ہونے پائیں"۔      ( ١٨٧٣ء، بنات النعش، ٢٠٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ ١٨١٨ء کو انشا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - چمک دمک، آب و تاب یا حسن وغیرہ میں مقابلۃً دوسرے سے کمتر یا فروتر۔ "دونوں کی نثر کی خوبی، شاعری کی شہرت اور عظمت کے مقابلے میں ماند رہی"۔    ( ١٩٨٧ء، غالب، ٩٧:٢٠١ ) ٣ - [ مجازا ]  کمزور، جوش سے خالی۔ "لڑکیو، تم سب اس کا اہتمام کرو کہ تمھاری غیرتیں اور عزتیں ماند اور مدھم نہ ہونے پائیں"۔      ( ١٨٧٣ء، بنات النعش، ٢٠٠ )