ماہیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کسی امر یا شے کی حقیقت، اصلیت، اصل کیفیت۔ "میں اُن کی تنقیص نہیں کر رہا ہوں اس کی ماہیت بیان کر رہا ہوں۔"      ( ١٩٨٣ء، سلیم احمد، نئی، شاعری، نامقبول شاعری، ٨٣ ) ٢ - خصوصیت، جوہر، مغز۔ "یہ صنعت ماہیت کے اعتبار سے جامد و ساقط ہونے کی بجائے انتہائی تخلیقی رجحانات کی حاصل ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، چھوٹی صنعتوں میں سرمایہ کاری، ١٤٨ ) ٣ - حقیقتِ حال۔ "بیان و لہجے کا وہ کون سا جادو ہوتا ہے جو قاری کا دل جیتنے کے علاوہ شعر کی ماہیت پر روشنی ڈالتا ہے۔"      ( ١٩٩١ء، نگار، کراچی، جنوری، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی امر یا شے کی حقیقت، اصلیت، اصل کیفیت۔ "میں اُن کی تنقیص نہیں کر رہا ہوں اس کی ماہیت بیان کر رہا ہوں۔"      ( ١٩٨٣ء، سلیم احمد، نئی، شاعری، نامقبول شاعری، ٨٣ ) ٢ - خصوصیت، جوہر، مغز۔ "یہ صنعت ماہیت کے اعتبار سے جامد و ساقط ہونے کی بجائے انتہائی تخلیقی رجحانات کی حاصل ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، چھوٹی صنعتوں میں سرمایہ کاری، ١٤٨ ) ٣ - حقیقتِ حال۔ "بیان و لہجے کا وہ کون سا جادو ہوتا ہے جو قاری کا دل جیتنے کے علاوہ شعر کی ماہیت پر روشنی ڈالتا ہے۔"      ( ١٩٩١ء، نگار، کراچی، جنوری، ١٠ )

جنس: مؤنث