مایا
معنی
١ - روشنی، جلوہ۔ "زندگی سے زبردستی چمٹی ہوئی اندھیرے کی مایا ہے"۔ ( ١٩٩٨ء، کہانی مجھے لگتی ہے، ١٦ ) ٢ - عقل و دانش، قدرت۔ (بطور مذکر) "اگر کسی میں بات سمجھنے کا مایا ہے تو حدیث میں الحق 'مُر' بھی آیا ہے۔ ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٤٦ ) ٣ - کرشمہ، قیامت، معجزہ۔ "جب کنس دیوتاؤں کو یوں ستانے لگا تب بشن نے اپنی آنکھوں سے ایک مایا اوپجائی سو ہاتھ باندھ سنمکھ آئی"۔ ( ١٨٠٣ء، پریم ساگر، ١٣ ) ٤ - خدا کی قدرت۔ "اصل ذات خداوندی نام، روپ اور مایا سے بلند تر اور بے نیاز ہے"۔ ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٧٤ ) ٥ - فطرت، نیچر۔ "روح اور جسم، مایا اور دنیا وغیرہ . انھوں نے دوران کلام میں آزادی کے ساتھ بحث کی ہے"۔ ( ١٩١٣ء، اکسیر سخن، ١٥ ) ٦ - جس کی کوئی حقیقت نہ ہو، دھوکا، فریب، سراب، وہم۔ "آپ چاہیں تو اسے مایا (دھوکا) کہہ لیجیے اور اسے تسلیم نہ کرنے کا بہانہ کیجیے"۔ ( ١٩٩٨ء، عبارت، حیدرآباد، جنوری تا جون، ٩٩ ) ٧ - رحم، کرپا، مہربانی۔ کیا دھوپ ہے کیا سایا ہے اللہ ہی اللہ کیا مہر ہے کیا مایا ہے اللہ ہی اللہ ( ١٨٣٠ء، کلیات، نظیر، ٢، ٢١٨:٢ ) ٨ - دھن، دولت، پونجی۔ "لوگ مایا کی کشش سے نجات حاصل نہ کر سکے"۔ ( ١٩٨٥ء، اردو ادب کی تحریکیں، ٥١ ) ٩ - کائنات، دنیا (جو فانی اور غیر حقیقی سمجھی جاتی ہے)۔ "برہما نے جو کائنات تخلیق کی ہے اس کا نام ویدانت نے مایا رکھا ہے"۔ ( ١٩٦١ء، اردو زبان اور اسالیب، ١٣٧ ) ١٠ - عجیب چیز، عجوبہ۔ ١١ - روح، جان، آتما۔ "ان کے گیان کو ایی زندگی جاوید حاصل ہوئی کہ مایا کی موت اب تک نزدیک نہیں آتی اور نہ گیان کا مرض سناتا ہے"۔ ( ١٨٥٤ء، بھگت مال، ١١٧ ) ١٢ - سامان، اسباب۔ ١٣ - [ قدیم ] بھید، راز
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیاتِ قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - روشنی، جلوہ۔ "زندگی سے زبردستی چمٹی ہوئی اندھیرے کی مایا ہے"۔ ( ١٩٩٨ء، کہانی مجھے لگتی ہے، ١٦ ) ٢ - عقل و دانش، قدرت۔ (بطور مذکر) "اگر کسی میں بات سمجھنے کا مایا ہے تو حدیث میں الحق 'مُر' بھی آیا ہے۔ ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٤٦ ) ٣ - کرشمہ، قیامت، معجزہ۔ "جب کنس دیوتاؤں کو یوں ستانے لگا تب بشن نے اپنی آنکھوں سے ایک مایا اوپجائی سو ہاتھ باندھ سنمکھ آئی"۔ ( ١٨٠٣ء، پریم ساگر، ١٣ ) ٤ - خدا کی قدرت۔ "اصل ذات خداوندی نام، روپ اور مایا سے بلند تر اور بے نیاز ہے"۔ ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٧٤ ) ٥ - فطرت، نیچر۔ "روح اور جسم، مایا اور دنیا وغیرہ . انھوں نے دوران کلام میں آزادی کے ساتھ بحث کی ہے"۔ ( ١٩١٣ء، اکسیر سخن، ١٥ ) ٦ - جس کی کوئی حقیقت نہ ہو، دھوکا، فریب، سراب، وہم۔ "آپ چاہیں تو اسے مایا (دھوکا) کہہ لیجیے اور اسے تسلیم نہ کرنے کا بہانہ کیجیے"۔ ( ١٩٩٨ء، عبارت، حیدرآباد، جنوری تا جون، ٩٩ ) ٨ - دھن، دولت، پونجی۔ "لوگ مایا کی کشش سے نجات حاصل نہ کر سکے"۔ ( ١٩٨٥ء، اردو ادب کی تحریکیں، ٥١ ) ٩ - کائنات، دنیا (جو فانی اور غیر حقیقی سمجھی جاتی ہے)۔ "برہما نے جو کائنات تخلیق کی ہے اس کا نام ویدانت نے مایا رکھا ہے"۔ ( ١٩٦١ء، اردو زبان اور اسالیب، ١٣٧ ) ١١ - روح، جان، آتما۔ "ان کے گیان کو ایی زندگی جاوید حاصل ہوئی کہ مایا کی موت اب تک نزدیک نہیں آتی اور نہ گیان کا مرض سناتا ہے"۔ ( ١٨٥٤ء، بھگت مال، ١١٧ )