مایہ
معنی
١ - کسی چیز کا مادہ یا جوہر، اصل۔ "ہر شاعر اور ادیب مجبور ہے . کہ وہ اپنے شعور اور فراست کے لیے اسی سرزمین کے سر چشموں کا ممنون ہو جس سے اس کا خمیر مایہ اٹھایا گیا۔" ( ١٩٨٦ء، ن م راشد ایک مطالعہ، ٣٢٨ ) ٢ - سامان، ذخیرۂ معدنیات۔ "اگر ختائیوں کو علم معدن اچھی طرح ہوتا تو اس جگہ کے پہاڑوں کے معدن میں اس قدر مایہ ہے کہ پدم یا روپیہ حاصل ہوتے۔" ( ١٨٤٨ء، تاریخ ممالک چین (ترجمہ)، ٣٠:١ ) ٣ - اثاثہ، راس المال، اصل مال، سرمایہ، پونجی، مال دولت۔ سلام ان پر ہے جن کی یاد دل کا اصل مایہ انھیں کے ذکرِ اطہر سے رچی ہے من کی مایا ( ١٩٩٣ء، زمزمۂ سلام، ١٨ ) ٤ - سبب، بنیاد، باعث، اساس، بنا، خمیر۔ مایۂ بحث اگر ہے، تو فقط مسجد ہے دیتِ قتلِ شہیدان جواں میر نہیں ( ١٩١٢ء، کلیات شبلی، ٨٥ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی چیز کا مادہ یا جوہر، اصل۔ "ہر شاعر اور ادیب مجبور ہے . کہ وہ اپنے شعور اور فراست کے لیے اسی سرزمین کے سر چشموں کا ممنون ہو جس سے اس کا خمیر مایہ اٹھایا گیا۔" ( ١٩٨٦ء، ن م راشد ایک مطالعہ، ٣٢٨ ) ٢ - سامان، ذخیرۂ معدنیات۔ "اگر ختائیوں کو علم معدن اچھی طرح ہوتا تو اس جگہ کے پہاڑوں کے معدن میں اس قدر مایہ ہے کہ پدم یا روپیہ حاصل ہوتے۔" ( ١٨٤٨ء، تاریخ ممالک چین (ترجمہ)، ٣٠:١ )