مبارک

قسم کلام: حرف دعائیہ

معنی

١ - خدائے تعالٰی برکت دے، نیک اور سعید کرے۔  اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے      ( ١٩٥٢ء، دست صبا، ٢٤ ) ٢ - [ طنزا ]  منحوس۔ "تمہارا قدم بہت مبارک ہے جہاں گئے وہاں خاک سیاہ ویران سنسان کر دیا"      ( ١٨٧٧ء، طلسم گوہر بار، ١٢٦ ) ١ - باعثِ برکت و رحمت، برکت والا، (مجازًا) متبرک، مقدس، اعلٰی و ارفع۔ "یہ مبارک مہینہ رمضان کا تھا"      ( ١٩٩٣ء، صحیفہ لاہور، جولائی، ستمبر۔ ٧٠ ) ٢ - سازگار، موافق، مناسب، لائق، جس کے لیے فضا ہموار ہو، نیک، سعید (ساعت وغیرہ)۔ "میرے خیال میں یہ ان کے لیے مبارک ہوا کہ انہوں نے خود ہی شاعری ترک کر دی ورنہ وہ اس چکر میں پڑ جاتے تو نہ جانے ان کا کیا حال ہوتا"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٣٥ ) ٣ - مژدہ، خوش خبری، تہنیت؛ بطور فجائیہ بمعنی مبارک ہو۔  ہر انقلاب مبارک ہر انقلاب عذاب شکست جام سے پہلے شکست جام کے بعد      ( ١٩٨٦ء، دیدۂ بیدار، ٨٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت اور حرف استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ طنزا ]  منحوس۔ "تمہارا قدم بہت مبارک ہے جہاں گئے وہاں خاک سیاہ ویران سنسان کر دیا"      ( ١٨٧٧ء، طلسم گوہر بار، ١٢٦ ) ١ - باعثِ برکت و رحمت، برکت والا، (مجازًا) متبرک، مقدس، اعلٰی و ارفع۔ "یہ مبارک مہینہ رمضان کا تھا"      ( ١٩٩٣ء، صحیفہ لاہور، جولائی، ستمبر۔ ٧٠ ) ٢ - سازگار، موافق، مناسب، لائق، جس کے لیے فضا ہموار ہو، نیک، سعید (ساعت وغیرہ)۔ "میرے خیال میں یہ ان کے لیے مبارک ہوا کہ انہوں نے خود ہی شاعری ترک کر دی ورنہ وہ اس چکر میں پڑ جاتے تو نہ جانے ان کا کیا حال ہوتا"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٣٥ )

اصل لفظ: برک