مبتلا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - گرفتار، پھنسا ہوا، گھرا ہوا۔ "وہ لندن میں ایک سخت آزمائش میں مبتلا ہو گئے۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٣٥ ) ٢ - کسی کام میں مصروف، مشغول۔ "درخت، چٹان، وادیاں، کہسار سب آہ و زاری میں مبتلا دکھائی دیتے تھے۔"      ( ١٩٥٨ء، نفسیات واردات روحانی، ٢٣١ ) ٣ - فریفتہ، عاشق، مفتوں، والہ و شیدا۔  ہے یہی وفاؤں کا کیا صلہ کہے کس سے انور مبتلا کبھی لب پہ آہ و فغاں رہی کبھی بے زباں سے گزر گئے      ( ١٩٨٨ء، مرج البحرین، ٤٣ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گرفتار، پھنسا ہوا، گھرا ہوا۔ "وہ لندن میں ایک سخت آزمائش میں مبتلا ہو گئے۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٣٥ ) ٢ - کسی کام میں مصروف، مشغول۔ "درخت، چٹان، وادیاں، کہسار سب آہ و زاری میں مبتلا دکھائی دیتے تھے۔"      ( ١٩٥٨ء، نفسیات واردات روحانی، ٢٣١ )

اصل لفظ: بلو