مبلغ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کامل، کھرا، پرکھا ہوا؛ (مجازاً) مال، نقد رقم، روپیہ۔ "سب نے کچھ کچھ پیش کیا، مبلغ خطیر جمع ہوگئے۔"      ( ١٩٠١ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ١٩٩:٢ ) ٢ - نقد روپے وغیرہ کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے رقم سے پہلے مستعمل جیسے: مبلغ پچاس ہزار روپیہ۔ "اس رقم میں سے مبلغ پچاس لاکھ روپیہ فوری طور پر ادا کر دیا جائے۔"      ( ١٩٩٣ء، اردو نامہ، لاہور، اپریل، ٤١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ عربی اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت اور گاہے اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٢ء کو "طلسم شایاں" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کامل، کھرا، پرکھا ہوا؛ (مجازاً) مال، نقد رقم، روپیہ۔ "سب نے کچھ کچھ پیش کیا، مبلغ خطیر جمع ہوگئے۔"      ( ١٩٠١ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ١٩٩:٢ ) ٢ - نقد روپے وغیرہ کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے رقم سے پہلے مستعمل جیسے: مبلغ پچاس ہزار روپیہ۔ "اس رقم میں سے مبلغ پچاس لاکھ روپیہ فوری طور پر ادا کر دیا جائے۔"      ( ١٩٩٣ء، اردو نامہ، لاہور، اپریل، ٤١ )

اصل لفظ: بلغ