متبحر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - تبحر والا، علم کا بہت بڑا دریا، بہت بڑا عالم و فاضل۔ "ان کی شاعری کی فضا میں بے جان تمثالوں کی سنگینی اور متبحر کیفیات کا جمود نہیں۔"      ( ١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٨ء کو "بستان حکمت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تبحر والا، علم کا بہت بڑا دریا، بہت بڑا عالم و فاضل۔ "ان کی شاعری کی فضا میں بے جان تمثالوں کی سنگینی اور متبحر کیفیات کا جمود نہیں۔"      ( ١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، نومبر، ٣٧ )

اصل لفظ: بحر