متجاوز

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - حد سے آگے بڑھنے والا، اپنی حد سے گزر جانے والا، تجاوز کرنے والا۔ "جس کی سانس پر صرف آس باقی تھی نمو کی پہلی منزل بھی اس نے ابھی طے نہ کی تھی حالانکہ اس کی عمر دس سال سے متجاوز کر چکی تھی"      ( ١٩٩٧ء، قومی زبان، کراچی، اگست ٥٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے، اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٣٧ء کو "ستۂ شمسیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حد سے آگے بڑھنے والا، اپنی حد سے گزر جانے والا، تجاوز کرنے والا۔ "جس کی سانس پر صرف آس باقی تھی نمو کی پہلی منزل بھی اس نے ابھی طے نہ کی تھی حالانکہ اس کی عمر دس سال سے متجاوز کر چکی تھی"      ( ١٩٩٧ء، قومی زبان، کراچی، اگست ٥٥ )

اصل لفظ: جوز