متحیر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - حیران، حیرت زدہ، دنگ، حواس باختہ، سراسیمہ، ہکا بکا، مبہوت۔ "میں متحیر ہو کر چاروں طرف دیکھنے لگی، وہ سچا تھا۔"      ( ١٩٩٠ء، پاگل خانہ، ١١٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧١٣ء کو "فائز دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حیران، حیرت زدہ، دنگ، حواس باختہ، سراسیمہ، ہکا بکا، مبہوت۔ "میں متحیر ہو کر چاروں طرف دیکھنے لگی، وہ سچا تھا۔"      ( ١٩٩٠ء، پاگل خانہ، ١١٩ )

اصل لفظ: حیر