متخلص

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - تخلص (وہ نام جو شعرا عام طور پر کلام کے مقطعے میں استعمال کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس کا کلام ہے) رکھنے والا (عموماً بہ کے ساتھ)، تعلیم یافتہ طبقۃ المتخلص بہ فلاں استعمال کرتا ہے۔ "شاعر شیریں زبان منشی محمد الف خاں صاحب متخلص بہ حباب دام فیوضہ۔"      ( ١٩٠٠ء، حباب کے ڈرامے، ١١٣ ) ٢ - بچا ہوا، چھڑایا ہوا۔ (جامع اللغات)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٠ء کو "طلسم فصاحت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تخلص (وہ نام جو شعرا عام طور پر کلام کے مقطعے میں استعمال کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس کا کلام ہے) رکھنے والا (عموماً بہ کے ساتھ)، تعلیم یافتہ طبقۃ المتخلص بہ فلاں استعمال کرتا ہے۔ "شاعر شیریں زبان منشی محمد الف خاں صاحب متخلص بہ حباب دام فیوضہ۔"      ( ١٩٠٠ء، حباب کے ڈرامے، ١١٣ )

اصل لفظ: خلص