متخیلہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ایک دماغی صلاحیت و قدرت جس کے سبب سے انسان نئی بات سوچتا اور غیرحاضر چیزوں کا نقش خیال میں بناتا ہے۔ خیال میں لانے کی طاقت، قوت تخیل، ذہن کی تخلیقی صلاحیت۔ "اس کی متخیلہ متحرک واقعات سے رجوع کرتی ہے۔"      ( ١٩٩١ء، اردو، کراچی، اکتوبر تا دسمبر، شمارہ، ١٠٢:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥١ء کو "عجائب القصص" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک دماغی صلاحیت و قدرت جس کے سبب سے انسان نئی بات سوچتا اور غیرحاضر چیزوں کا نقش خیال میں بناتا ہے۔ خیال میں لانے کی طاقت، قوت تخیل، ذہن کی تخلیقی صلاحیت۔ "اس کی متخیلہ متحرک واقعات سے رجوع کرتی ہے۔"      ( ١٩٩١ء، اردو، کراچی، اکتوبر تا دسمبر، شمارہ، ١٠٢:٤ )

اصل لفظ: خیل
جنس: مؤنث