مترنم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - گانے والا، نغمہ سرا؛ (مجازاً) سریلا۔ "پہاڑوں سے گرتے ہوئے جھرنوں اور آبشاروں کے مترنم شور سے روح میں تازگی کا احساس ہوا۔"      ( ١٩٩٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ١٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٥ء کو "جامع الاخلاق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گانے والا، نغمہ سرا؛ (مجازاً) سریلا۔ "پہاڑوں سے گرتے ہوئے جھرنوں اور آبشاروں کے مترنم شور سے روح میں تازگی کا احساس ہوا۔"      ( ١٩٩٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ١٢ )

اصل لفظ: رنم