متساہل
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - تساہل یا سستی کرنے والا۔ "اسے ان کی بے نیازی کے سوا اور کیا کہا جائے. کیونکہ وہ خلقی طور پر متساہل نہ تھے۔" ( ١٩٧٣ء، مقامِ غزل (عرض مرتب)، ٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٠ء کو "کشکول" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تساہل یا سستی کرنے والا۔ "اسے ان کی بے نیازی کے سوا اور کیا کہا جائے. کیونکہ وہ خلقی طور پر متساہل نہ تھے۔" ( ١٩٧٣ء، مقامِ غزل (عرض مرتب)، ٥ )
اصل لفظ: سہل