متعدد

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کئی، بہت سے، زیادہ۔ "اردو کے متعدد حروف شکل میں مشابہ ہیں۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، اگست، ٦٤ ) ٢ - مختلف، متفرق، جدا جدا۔ "سیاسی ریشہ دوانیوں اور انتشار کے سبب یہ خواہش پوری نہ ہو سکی، کیونکہ اسے بڑی مشکلات کا سامنا تھا اور اس کی ناکامی کے متعدد اسباب موجود تھے۔"      ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٢٣١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٥ء کو "جامع الاخلاق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کئی، بہت سے، زیادہ۔ "اردو کے متعدد حروف شکل میں مشابہ ہیں۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، اگست، ٦٤ ) ٢ - مختلف، متفرق، جدا جدا۔ "سیاسی ریشہ دوانیوں اور انتشار کے سبب یہ خواہش پوری نہ ہو سکی، کیونکہ اسے بڑی مشکلات کا سامنا تھا اور اس کی ناکامی کے متعدد اسباب موجود تھے۔"      ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٢٣١ )

اصل لفظ: عدد