متعرف

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - معمولی جان پہچان والا، شناسا۔ "رسمی متعرف کا کلام قلوب پر اثرانداز نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٧٤ء، انفاس العارفین (ترجمہ)، ٢٤٦ ) ٢ - اقرار کرنے والا، اعتراف کرنے والا، معترف۔ "اس کے دشمن بھی اس کے شریف چال چلن کے معترف ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم (ترجمہ)، ٢٧٢:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٧ء کو "مخزن" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - معمولی جان پہچان والا، شناسا۔ "رسمی متعرف کا کلام قلوب پر اثرانداز نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٧٤ء، انفاس العارفین (ترجمہ)، ٢٤٦ ) ٢ - اقرار کرنے والا، اعتراف کرنے والا، معترف۔ "اس کے دشمن بھی اس کے شریف چال چلن کے معترف ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم (ترجمہ)، ٢٧٢:٤ )

اصل لفظ: عرف