متغائر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جدا، الگ، مختلف، بے میل؛ اجنبی۔ "یہ وہ نظریہ ہے جسے ابتدا سے انبیا علیہم السلام پیش کرتے آئے ہیں . جو جاہلی ادب و ہنر کے تمام راستوں سے متغائر ہوتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٣٦٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥١ء کو "عجائب القصص" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جدا، الگ، مختلف، بے میل؛ اجنبی۔ "یہ وہ نظریہ ہے جسے ابتدا سے انبیا علیہم السلام پیش کرتے آئے ہیں . جو جاہلی ادب و ہنر کے تمام راستوں سے متغائر ہوتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٣٦٤ )

اصل لفظ: غیر