متلاطم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - تلاطم والا، باہم تھپیڑے مارنے والا، موجزن (عموماً دریا یا سمندر وغیرہ کی صفت میں مستعمل)۔ "روشن چاند کی کشش سے سمندر متلاطم ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٩٨ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، ٦٥ ) ٢ - [ مجازا ]  پر ہیجان، اضطراب سے بھرا ہوا، طوفانی۔ "انگارے، کی ضبطی نے متلاطم لہروں کو تیز کر دیا۔"      ( ١٩٩٨ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٢٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩١ء کو "بوستان خیال" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تلاطم والا، باہم تھپیڑے مارنے والا، موجزن (عموماً دریا یا سمندر وغیرہ کی صفت میں مستعمل)۔ "روشن چاند کی کشش سے سمندر متلاطم ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٩٨ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، ٦٥ ) ٢ - [ مجازا ]  پر ہیجان، اضطراب سے بھرا ہوا، طوفانی۔ "انگارے، کی ضبطی نے متلاطم لہروں کو تیز کر دیا۔"      ( ١٩٩٨ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٢٦ )

اصل لفظ: لطم