متمائز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - باہم امتیاز اور فرق رکھنے والا، ممتاز، جدا۔ "سید وقار عظیم اپنے طلباء کو اقبال صرف پڑھاتے ہی نہیں تھے منتقل بھی کرتے تھے، دیگر امتیازات سے قطع نظر یہ ایک بات ہی بجاش خود ایسی ہے جو انھیں اقبال شناسوں میں بہت متمائِز اور سرمایۂ ناز بنا دیتی ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ١١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٨ء کو "آئینِ اکبری" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باہم امتیاز اور فرق رکھنے والا، ممتاز، جدا۔ "سید وقار عظیم اپنے طلباء کو اقبال صرف پڑھاتے ہی نہیں تھے منتقل بھی کرتے تھے، دیگر امتیازات سے قطع نظر یہ ایک بات ہی بجاش خود ایسی ہے جو انھیں اقبال شناسوں میں بہت متمائِز اور سرمایۂ ناز بنا دیتی ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ١١ )

اصل لفظ: میذ