متورع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پرہیزگار، عابد و زاہد، پارسا، متقی۔ "ہدایت بہت حلیم اور سلیم، متواضع اور مودب متورع اور خلیق تھے۔"      ( ١٩٨٨ء، دہلوی مرثیہ گو، ٢٩٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٥ء کو"احوال الانبیا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرہیزگار، عابد و زاہد، پارسا، متقی۔ "ہدایت بہت حلیم اور سلیم، متواضع اور مودب متورع اور خلیق تھے۔"      ( ١٩٨٨ء، دہلوی مرثیہ گو، ٢٩٨ )

اصل لفظ: ورع