متورم
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - ورم کرنے والا، سوجنے والا، سوجا ہوا، ورم زدہ۔ "ناک اور منہ سے خون، چہرے متورم اور کرب و تکلیف کی فلک شگاف چیخیں۔" ( ١٩٩٠ء پاگل خانہ، ١٩٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٣ء کو "خطوط غالب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ورم کرنے والا، سوجنے والا، سوجا ہوا، ورم زدہ۔ "ناک اور منہ سے خون، چہرے متورم اور کرب و تکلیف کی فلک شگاف چیخیں۔" ( ١٩٩٠ء پاگل خانہ، ١٩٧ )
اصل لفظ: ورم