متوکل

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - توکل کرنے والا؛ (صرف خدائے تعالٰی پر) بھروسا کرنے والا، مرضی الٰہی پر صابر و شاکر ہو کر رہنے والا۔ "حضورۖ سے زیادہ متوکل آپۖ کبھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے۔"      ( ١٩٨٢ء، نگار، کراچی، جولائی، ٥٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٠٠ء کو "من لگن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - توکل کرنے والا؛ (صرف خدائے تعالٰی پر) بھروسا کرنے والا، مرضی الٰہی پر صابر و شاکر ہو کر رہنے والا۔ "حضورۖ سے زیادہ متوکل آپۖ کبھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے۔"      ( ١٩٨٢ء، نگار، کراچی، جولائی، ٥٢ )

اصل لفظ: وکل