متہم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس پر تہمت لگائی جائے، جس پر الزام لگایا جائے، بدنام۔ "اس میں. نہ آپۖ کو ایسی کمزوریوں سے متہم کیا گیا ہے جو ایک ہادی اور داعی الٰی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔"      ( ١٩٧٨ء، سیرت سرور عالمۖ، ٤٧:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٥ء کو "دیوانِ قائم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس پر تہمت لگائی جائے، جس پر الزام لگایا جائے، بدنام۔ "اس میں. نہ آپۖ کو ایسی کمزوریوں سے متہم کیا گیا ہے جو ایک ہادی اور داعی الٰی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔"      ( ١٩٧٨ء، سیرت سرور عالمۖ، ٤٧:٢ )

اصل لفظ: تہم