متیقن
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - وہ امر جس کا یقین ہو، یقینی بات۔ "الفاظ اور فقرے سمجھ میں آتے تھے اصلی مفہوم و متیقن نہ ہوتا۔" ( ١٩٧٧ء، اقبال شخصیت اور شاعری، ٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥١ء کو "عجائب القصص" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔۔
مثالیں
١ - وہ امر جس کا یقین ہو، یقینی بات۔ "الفاظ اور فقرے سمجھ میں آتے تھے اصلی مفہوم و متیقن نہ ہوتا۔" ( ١٩٧٧ء، اقبال شخصیت اور شاعری، ٢ )
اصل لفظ: یقن