مجال

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ لفظا ]  جولا نگاہ، گھومنے پھرنے کا میدان، چوگان پھرانے کا میدان، چکر دینے کا میدان؛ مراد: قدرت، طاقت، بساط، حوصلہ، مقدور، ہمت، تاب۔ "اب کس کی مجال ہے جو انہیں غلط کہے۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٣ ) ٢ - موقع "شریر دوستوں میں مجال دخل کی پائیں گے۔"      ( ١٨٣٧ء، بستان حکمت، ٥٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ لفظا ]  جولا نگاہ، گھومنے پھرنے کا میدان، چوگان پھرانے کا میدان، چکر دینے کا میدان؛ مراد: قدرت، طاقت، بساط، حوصلہ، مقدور، ہمت، تاب۔ "اب کس کی مجال ہے جو انہیں غلط کہے۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٣ ) ٢ - موقع "شریر دوستوں میں مجال دخل کی پائیں گے۔"      ( ١٨٣٧ء، بستان حکمت، ٥٤ )

اصل لفظ: جول
جنس: مؤنث