مجبول

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - (کسی خاص فطرت پر) پیدا کیا ہوا۔ جبلت کیا ہوا، جبلی اور طبعی کیا ہوا، خلقی اور فطری طور پر اچھی صفات بخشا ہوا۔ 1845ء کو احوال الانبیا میں مستعمل ہوا۔ "اس کو رحیم جاننے اور کہنے پر دل مجبور اور مجبول ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیر ایوبی، ١٨٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مفعول ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٤٥ء کو "احوال الانبیا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کسی خاص فطرت پر) پیدا کیا ہوا۔ جبلت کیا ہوا، جبلی اور طبعی کیا ہوا، خلقی اور فطری طور پر اچھی صفات بخشا ہوا۔ 1845ء کو احوال الانبیا میں مستعمل ہوا۔ "اس کو رحیم جاننے اور کہنے پر دل مجبور اور مجبول ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیر ایوبی، ١٨٩:١ )

اصل لفظ: جبل
جنس: مذکر