مجدد
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - ازسرنو پیدا کیا ہوا، نیا، جدید، تجدید کیا گیا۔ وہ ایک طرزِ مجدد کا شعر میں موجد ابھارے جس نے نگار وطن کے خال و خد ( ١٩٧٥ء، فروش خم، ١٧٢ ) ٢ - مرمت کیا گیا۔ (جامع اللغات) ٣ - ازسرنو، پھر سے، دوبارہ۔ فراست کرے اور آ کر کہے جد ہووے تسلی مجدد مجھے ( ١٨٠٢ء، بہاردانش، طپش، ٨٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٥٩ء کو "میراں جی خدا نما، نورنین" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: جدد