مجرب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آزمایا ہوا، آزمودہ، تجربہ کیا ہوا۔ "مجرب نسخہ تھا کام آیا"۔      ( ١٩٩١ء، افکار، کراچی، نومبر، دسمبر، ٢٤٧ ) ٢ - [ اصطلاحا ]  کارگر، مؤثر، تیر بہدف (نسخہ وغیرہ) "دماغ کی قوت کے واسطے غذا اور مجرب دوا زود اثر عرض کروں گا"۔      ( ١٩٢٨ء، کانا باتی، میر باقر علی، ٢٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ ثلاثی مزید فیہ کے "باب تفعیل" سے اسم مفعول ہے۔ اردو میں ١٦١٤ء کو "بھوگ بھل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آزمایا ہوا، آزمودہ، تجربہ کیا ہوا۔ "مجرب نسخہ تھا کام آیا"۔      ( ١٩٩١ء، افکار، کراچی، نومبر، دسمبر، ٢٤٧ ) ٢ - [ اصطلاحا ]  کارگر، مؤثر، تیر بہدف (نسخہ وغیرہ) "دماغ کی قوت کے واسطے غذا اور مجرب دوا زود اثر عرض کروں گا"۔      ( ١٩٢٨ء، کانا باتی، میر باقر علی، ٢٠ )

اصل لفظ: جرب