مجعول

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - پیدا کیا ہوا، بنایا ہوا۔ "خود وجود ہی مجعول اور واجب کا مخلوق ہوتا ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ٧٥٦:١ ) ٢ - جھوٹا بنایا ہوا، جعلی گھڑا ہوا۔ "اس وقت اس کے نام سے جو حکایات مشہور ہیں وہ مجعول ہیں۔"      ( ١٨٦٣ء، جوہر اخلاق (مقدمہ)،٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بعینہ مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠٩ء کو "شاہ کمال" کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پیدا کیا ہوا، بنایا ہوا۔ "خود وجود ہی مجعول اور واجب کا مخلوق ہوتا ہے۔"      ( ١٩٤٠ء، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ٧٥٦:١ ) ٢ - جھوٹا بنایا ہوا، جعلی گھڑا ہوا۔ "اس وقت اس کے نام سے جو حکایات مشہور ہیں وہ مجعول ہیں۔"      ( ١٨٦٣ء، جوہر اخلاق (مقدمہ)،٢ )

اصل لفظ: جعل