مجلا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جلا کیا ہوا، چمکایا ہوا، صیقل کیا ہوا، صاف، روشن۔ "سیرت نگاری کا یہ پیرایہ بہت مؤثر ہوا کرتا ہے . ہر دل کی گرد آلود اور زنگ خوردہ تہوں میں اتر کر اس کو مجلا اور مصفا کرتا چلا جاتا ہے"۔      ( ١٩٩١ء، زمزمہ درود، ٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اردو میں آیا۔ "باب تفعیل مہموز العین" سے اسم مفعول ہے اردو میں ١٧٦٨ء کو "دیوان قربی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جلا کیا ہوا، چمکایا ہوا، صیقل کیا ہوا، صاف، روشن۔ "سیرت نگاری کا یہ پیرایہ بہت مؤثر ہوا کرتا ہے . ہر دل کی گرد آلود اور زنگ خوردہ تہوں میں اتر کر اس کو مجلا اور مصفا کرتا چلا جاتا ہے"۔      ( ١٩٩١ء، زمزمہ درود، ٢٢ )

اصل لفظ: جلو