مجموعہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ذخیرہ، خزانہ، مخزن۔ "روس کا قانون . اُن ضوابط کا مجموعہ مردوں سے کچھ یوں ہی سا بڑھا رہتا ہے۔"    ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ١ ) ٢ - گروہ، زمرہ، اجتماع کثیر۔ "مسلمان ایک ہی قوم تھے ان کے برعکس ہند کئی ایک قوموں کا مجموعہ تھے۔"    ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٢٨٦ ) ٤ - جمع کردہ کلام یا تحریروں پر مشتعمل کتاب، گلدستہ۔ "یہ میری کہانیوں کا مجموعہ تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٢٣٣ ) ٦ - ایک مرکب عطر جس میں بہت سی خوشبوئیں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔  عطر مٹی کا رکھے خاک بستر تجکو سدا کردے مجموعہ پریشانی خاطر کو سوا      ( ١٨٥٨ء، امانت (نوراللغات) )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'مجموع' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ذخیرہ، خزانہ، مخزن۔ "روس کا قانون . اُن ضوابط کا مجموعہ مردوں سے کچھ یوں ہی سا بڑھا رہتا ہے۔"    ( ١٨٩١ء، ایامٰی، ١ ) ٢ - گروہ، زمرہ، اجتماع کثیر۔ "مسلمان ایک ہی قوم تھے ان کے برعکس ہند کئی ایک قوموں کا مجموعہ تھے۔"    ( ١٩٨٦ء، اقبال اور جدید دنیائے اسلام، ٢٨٦ ) ٤ - جمع کردہ کلام یا تحریروں پر مشتعمل کتاب، گلدستہ۔ "یہ میری کہانیوں کا مجموعہ تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ٢٣٣ )

اصل لفظ: جمع
جنس: مذکر