مجیب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جواب دینے والا۔ "اس نے یہاں کی ڈاک میں گفتگو کی، کوئی اس کا مجیب نہ ہوا"۔    ( ١٩٤٩ء، تمہید نادرات، ٥٤:٢ ) ٢ - قبول کرنے والا۔  جو چاہو تم طلب کرو اخلاص قلب سے مژدہ اے داعیو کہ یہ در ہے مجیب کا    ( ١٩٣٧ء، ترانہ مسرت، ٨١ ) ٣ - جواب دینے اور قبول کرنے والا، خدا تعالٰی کا صفاتی نام۔  تو ستم کُش کا معاون ہے، منادی کا مجیب متکفِل ہے غریبوں کا علیلوں کا طبیب      ( ١٩٢٠ء، فردوس تخیل، ٢٢٨ ) ٤ - [ طب ]  اجابت لانے والی دوا۔ "ایسی مجیب دوائیں جن سے پیٹ میں پیچ ہو استعمال نہ کی جائیں"۔      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٩٣ ) ٥ - [ موسیقی ]  امیر خسرو کا ایجاد کردہ ایک راگ۔ "مجیب یا مجیر : (الگ ایجاد کردہ امیر خسرو) غارا اور عجمی راگوں سے مرکب ہے"۔      ( ١٩٦٠ء، حیات امیر خسرو، ١٦٩ ) ٦ - [ اصلاح مناظرہ ]  مدعی (کیونکہ وہ جواب دیتا ہے) "مدعی کو اس حیثیت سے کہ وہ سائل کو جواب دیتا ہے مجیب کہتے ہیں"۔      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٤٥٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے اردو میں آیا۔ ثلاثی مزید فیہ کے "باب افعال" سے اسم فاعل ہے۔ اردو میں ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جواب دینے والا۔ "اس نے یہاں کی ڈاک میں گفتگو کی، کوئی اس کا مجیب نہ ہوا"۔    ( ١٩٤٩ء، تمہید نادرات، ٥٤:٢ ) ٤ - [ طب ]  اجابت لانے والی دوا۔ "ایسی مجیب دوائیں جن سے پیٹ میں پیچ ہو استعمال نہ کی جائیں"۔      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٩٣ ) ٥ - [ موسیقی ]  امیر خسرو کا ایجاد کردہ ایک راگ۔ "مجیب یا مجیر : (الگ ایجاد کردہ امیر خسرو) غارا اور عجمی راگوں سے مرکب ہے"۔      ( ١٩٦٠ء، حیات امیر خسرو، ١٦٩ ) ٦ - [ اصلاح مناظرہ ]  مدعی (کیونکہ وہ جواب دیتا ہے) "مدعی کو اس حیثیت سے کہ وہ سائل کو جواب دیتا ہے مجیب کہتے ہیں"۔      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٤٥٥ )

اصل لفظ: جوب