محارم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی کے ایسے قریبی رشتہ دار جن سے اس کا نکاح جائز نہیں، محرم لوگ۔ "اگر طوائفیں نہ ہوں گی تو بہت سے بدبخت شہوت سے مغلوب ہو کر محرموں میں کود پڑیں گے۔"      ( ١٩٨٨ء، دو ادبی سکول، ٢٦٨ ) ٢ - اللہ تعالٰی کی حرام کی ہوئی چیزیں یا حدود۔ "اللہ تعالٰی کی مقرر کردہ حدیں "محارم" کہلاتی ہیں۔"      ( ١٩٨٢ء، جرم و سزا کا اسلامی فلسفہ، ١٠٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'محرم' کی جمع ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٥ء کو"احوال الانبیاء" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی کے ایسے قریبی رشتہ دار جن سے اس کا نکاح جائز نہیں، محرم لوگ۔ "اگر طوائفیں نہ ہوں گی تو بہت سے بدبخت شہوت سے مغلوب ہو کر محرموں میں کود پڑیں گے۔"      ( ١٩٨٨ء، دو ادبی سکول، ٢٦٨ ) ٢ - اللہ تعالٰی کی حرام کی ہوئی چیزیں یا حدود۔ "اللہ تعالٰی کی مقرر کردہ حدیں "محارم" کہلاتی ہیں۔"      ( ١٩٨٢ء، جرم و سزا کا اسلامی فلسفہ، ١٠٦ )

اصل لفظ: حرم
جنس: مذکر