محاصل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آمدنی؛ نفع؛ محصول؛ پیداوار کا محصول۔ "سرکاری محاصل کے تحفظ کے لیے بینک گارنٹی کا موجودہ نظام جاری رہنا چاہیے۔"      ( ١٩٩٠ء، وفاقی محتسب کی سالانہ رپورٹ، ٢٠٤ ) ٢ - خراج، مال گزاری، لگان۔ "بدلے میں انہیں محاصل میں چھوٹ دی جاتی تھی۔"      ( ١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ٦ ) ٣ - حاصل، پھل، نتیجہ۔ "ہر ایک شخص کی محنت کا محاصل اس مقدار سے زیادہ ہوتا ہے جو اس کی پرورش کے لیے کافی تھا۔"      ( ١٨٧٤ء، مقالات سرسید، ١٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'محصول' کی جمع ہے۔ اردو میں بطور واحد بھی مستعمل ہے۔ ١٧٩٢ء کو "عجائب القصص (شاہ عالم ثانی)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آمدنی؛ نفع؛ محصول؛ پیداوار کا محصول۔ "سرکاری محاصل کے تحفظ کے لیے بینک گارنٹی کا موجودہ نظام جاری رہنا چاہیے۔"      ( ١٩٩٠ء، وفاقی محتسب کی سالانہ رپورٹ، ٢٠٤ ) ٢ - خراج، مال گزاری، لگان۔ "بدلے میں انہیں محاصل میں چھوٹ دی جاتی تھی۔"      ( ١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ٦ ) ٣ - حاصل، پھل، نتیجہ۔ "ہر ایک شخص کی محنت کا محاصل اس مقدار سے زیادہ ہوتا ہے جو اس کی پرورش کے لیے کافی تھا۔"      ( ١٨٧٤ء، مقالات سرسید، ١٨ )

اصل لفظ: حصل
جنس: مذکر