محافظت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حفاظت، رکھوالی، پاسبانی، نگرانی، نگہبانی۔ "عقل کی محافظت کے معنی یہ ہیں کہ عقل کی ایسے امور سے محافظت کی جاش جو عقل کے فتور کا باعث ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٢ء، جرم و سزا کا اسلامی فلسفہ، ٦١ ) ٢ - کوئی کام پابندی کے ساتھ کرنا، اہتمام۔ "محافظت کرو سب نمازوں کی (عموماً) اور درمیان والی نماز (یعنی عصر) کی (خصوصاً)      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٣٤:١ ) ٣ - خیال، لحاظ۔ "جو گزشتہ واقعات کی محفاظت کرے گا اور اس کے مطالعے میں مشغول ہو گا وہ اپنے آ مال و امانی کے حاصل کرنے میں تتبع اوقات میں صرف کرے گا۔"      ( ١٨٨٠ء، تاریخ ہندوستان، ١٠:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حفاظت، رکھوالی، پاسبانی، نگرانی، نگہبانی۔ "عقل کی محافظت کے معنی یہ ہیں کہ عقل کی ایسے امور سے محافظت کی جاش جو عقل کے فتور کا باعث ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٢ء، جرم و سزا کا اسلامی فلسفہ، ٦١ ) ٢ - کوئی کام پابندی کے ساتھ کرنا، اہتمام۔ "محافظت کرو سب نمازوں کی (عموماً) اور درمیان والی نماز (یعنی عصر) کی (خصوصاً)      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٣٤:١ ) ٣ - خیال، لحاظ۔ "جو گزشتہ واقعات کی محفاظت کرے گا اور اس کے مطالعے میں مشغول ہو گا وہ اپنے آ مال و امانی کے حاصل کرنے میں تتبع اوقات میں صرف کرے گا۔"      ( ١٨٨٠ء، تاریخ ہندوستان، ١٠:١ )

اصل لفظ: حفظ
جنس: مؤنث