محاکات
معنی
١ - آپس میں بات چیت کرنا، باہم حکایت کرنا؛ کسی کے قول و فعل کی نقل کرنا، نقالی، باہم داستان گوئی؛ مثل ہونا، مانند ہونا۔ "انسان کی فطرت ہے کہ وہ نقل یا محاکات سے لطف اندوز ہوتا ہے۔" ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٣ ) ٢ - [ شاعری ] بیان میں کسی واقعے، منظر یا امر کی تصویر کشی یا منظر کشی کرنا، شاعری میں واقعات کی صورت گری، امیجری۔ "ان کی شاعری میں فکری عناصر کی بجائے محاکات کا رنگ پیدا ہوا ہے۔" ( ١٩٩٤ء، نگار، کراچی، نومبر، ٦٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم' ہے۔ اردو میں بعینہ مستعمل ہے۔ ١٩١٨ء کو "روح الاجتماع" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آپس میں بات چیت کرنا، باہم حکایت کرنا؛ کسی کے قول و فعل کی نقل کرنا، نقالی، باہم داستان گوئی؛ مثل ہونا، مانند ہونا۔ "انسان کی فطرت ہے کہ وہ نقل یا محاکات سے لطف اندوز ہوتا ہے۔" ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٣ ) ٢ - [ شاعری ] بیان میں کسی واقعے، منظر یا امر کی تصویر کشی یا منظر کشی کرنا، شاعری میں واقعات کی صورت گری، امیجری۔ "ان کی شاعری میں فکری عناصر کی بجائے محاکات کا رنگ پیدا ہوا ہے۔" ( ١٩٩٤ء، نگار، کراچی، نومبر، ٦٢ )