محبس
معنی
١ - قید خانہ، زنداں، جیل خانہ۔ "محبس کے دیوار و در کے باوجود اس کو امید کی کرن دکھائی دے رہی تھی۔" ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٥٧ ) ٢ - باڑا، مویشی گھر۔ (پلیٹس) ٣ - احاطہ، گھیری ہوئی جگہ، بند جگہ۔ جل اٹھی شمع، دل کے محبس میں صبح گویا ہوئی بنارس میں ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٢٠١ ) ٤ - کارخانہ "یہاں کا محبس صنعت و حرفت خصوصاً تیاری خیمہ جات نفیسہ کے سب سے تمام ممالک محروسہ دکن میں مشہور ہے۔" ( ١٩٠١ء، ارمغانی سلطان، ٢٧ ) ٥ - [ مجازا ] غلاف، خول۔ میں اپنی ذات کے محبس میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہوں لہو پرچھائیں بن کر دوڑتا رہتا ہے سڑکوں پر ( ١٩٩٠ء، ساون آیا ہے، ١٣٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم' ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٣٨ء کو "گلزار نسیم" میں مستعمل ہوا۔
مثالیں
١ - قید خانہ، زنداں، جیل خانہ۔ "محبس کے دیوار و در کے باوجود اس کو امید کی کرن دکھائی دے رہی تھی۔" ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٥٧ ) ٤ - کارخانہ "یہاں کا محبس صنعت و حرفت خصوصاً تیاری خیمہ جات نفیسہ کے سب سے تمام ممالک محروسہ دکن میں مشہور ہے۔" ( ١٩٠١ء، ارمغانی سلطان، ٢٧ )