محتاج

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ضرورت مند، حاجب مند، خواہش مندر، خواہاں، طلب گار، متقاضی "آغا صادق اقلیم شعر و سخن میں جس خاص پر متمکن ہیں وہ محتاج تعارف نہیں"      ( ١٩٩٢ء، صحیفہ، لاہور، جنوری تا مارچ، ٣١ ) ٢ - دوسرے کا ہاتھ تکنے والا، دست نگر، دوسروں کے رحم و کرم پر جینے والا۔ "اودھ کے نواب معمولی سے معمولی معاملے کی انجام دہی میں انگریز کے محتاج ہو گئے"      ( ١٩٩٤ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، اے ) ٣ - غریب، مفلس، نادرا نیز بھکاری، فقیر، منگتا "جب سارا مال تقسیم ہو کر محتاجوں کو پہنچ جاتا تو خاطر مبارک کو اطمینان ہوتا"      ( ١٩٥٠ء، بزم صوفیہ، ٢٥٤ ) ٥ - پابند، وابستہ، منحصر، موقوف "شاعری جس کا مقصد ہی جذبات کا اظہار اور احساسات کا اشتعال ہے اس کے لیے پیرایۂ نظر کا فطری ہونا کسی دلیل اور بحث کا محتاج نہیں معلوم ہوتا"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان کراچی، جنوری ٢١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور تجریراً ١٥٦٤ء، کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ضرورت مند، حاجب مند، خواہش مندر، خواہاں، طلب گار، متقاضی "آغا صادق اقلیم شعر و سخن میں جس خاص پر متمکن ہیں وہ محتاج تعارف نہیں"      ( ١٩٩٢ء، صحیفہ، لاہور، جنوری تا مارچ، ٣١ ) ٢ - دوسرے کا ہاتھ تکنے والا، دست نگر، دوسروں کے رحم و کرم پر جینے والا۔ "اودھ کے نواب معمولی سے معمولی معاملے کی انجام دہی میں انگریز کے محتاج ہو گئے"      ( ١٩٩٤ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، اے ) ٣ - غریب، مفلس، نادرا نیز بھکاری، فقیر، منگتا "جب سارا مال تقسیم ہو کر محتاجوں کو پہنچ جاتا تو خاطر مبارک کو اطمینان ہوتا"      ( ١٩٥٠ء، بزم صوفیہ، ٢٥٤ ) ٥ - پابند، وابستہ، منحصر، موقوف "شاعری جس کا مقصد ہی جذبات کا اظہار اور احساسات کا اشتعال ہے اس کے لیے پیرایۂ نظر کا فطری ہونا کسی دلیل اور بحث کا محتاج نہیں معلوم ہوتا"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان کراچی، جنوری ٢١ )

اصل لفظ: حوج
جنس: مذکر