محذوف

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ عروض ]  وہ رکن جس کے سبب خفیف یا دو حرف گرا دئیے جائیں جیسے فعولن سے فعل۔ "وجہ شبہ اور حرف تشبیہ کبھی مذکور ہوتے ہیں کبھی محذوف۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٣٦ ) ١ - حذف کیا گیا، خارج کیا گیا، گرایا گیا؛ وہ (لفظ یا حرف) جو گرا دیا گیا ہو۔ "بدلے ہوئے املا میں اگر نون میں غنہ کا نشان محذوف ہو گیا تو التباس کا سبب ہو گا۔"      ( ١٩٩٢ء، نگار، اگست، ٤٢ ) ٢ - جو ظاہر نہ ہو، مقدر۔ "مومن کے یہاں اکثر اجزائے کلام محذوف ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٩٤ء، نگار، کراچی، نومبر، ٢٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور 'صفت' مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٤٤٠ء کو "شمس العشا" میں تحریراً مستعمل ہوا۔

مثالیں

١ - [ عروض ]  وہ رکن جس کے سبب خفیف یا دو حرف گرا دئیے جائیں جیسے فعولن سے فعل۔ "وجہ شبہ اور حرف تشبیہ کبھی مذکور ہوتے ہیں کبھی محذوف۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٣٦ ) ١ - حذف کیا گیا، خارج کیا گیا، گرایا گیا؛ وہ (لفظ یا حرف) جو گرا دیا گیا ہو۔ "بدلے ہوئے املا میں اگر نون میں غنہ کا نشان محذوف ہو گیا تو التباس کا سبب ہو گا۔"      ( ١٩٩٢ء، نگار، اگست، ٤٢ ) ٢ - جو ظاہر نہ ہو، مقدر۔ "مومن کے یہاں اکثر اجزائے کلام محذوف ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٩٤ء، نگار، کراچی، نومبر، ٢٩ )

اصل لفظ: حذف
جنس: مذکر