محرک

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ماحول میں کوئی تبدیلی جو کسی جاندار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ "ایک محرک کے جتنے بھی رد عمل ہوتے ہیں ان میں ربط پایا جاتا ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، معیاری حیوانیات، ٥:١ ) ٢ - [ نفسیات ]  کسی کام کے کرنے کا پیدائشی اور بغیر سیکھا رجحان، جبلت۔ "رجحان جدید نفسیات کے بعض علماء اس لفظ کی بجائے محرک کا استعمال پسند کرتے ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ٣٧ ) ١ - ہلانے والا، جنبش دینے والا، تحریک کرنے والا، حرکت دینے والا۔ "بہ ظاہر یہی خیال اس تحرک کا محرک معلوم ہوتا ہے۔"      ( ١٩٩١ء، اردو نامہ، لاہور، جنوری، ٢٠ ) ٢ - اُکسانے والا، اُبھارنے والا، باعث، بہکانے والا۔ "خارج اور حادثات ہمیشہ خیال کا محرک ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٣٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور اسم نیز صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "ولی" کے کلیات میں تحریراً مستعمل ہوا۔

مثالیں

١ - ماحول میں کوئی تبدیلی جو کسی جاندار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ "ایک محرک کے جتنے بھی رد عمل ہوتے ہیں ان میں ربط پایا جاتا ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، معیاری حیوانیات، ٥:١ ) ٢ - [ نفسیات ]  کسی کام کے کرنے کا پیدائشی اور بغیر سیکھا رجحان، جبلت۔ "رجحان جدید نفسیات کے بعض علماء اس لفظ کی بجائے محرک کا استعمال پسند کرتے ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ٣٧ ) ١ - ہلانے والا، جنبش دینے والا، تحریک کرنے والا، حرکت دینے والا۔ "بہ ظاہر یہی خیال اس تحرک کا محرک معلوم ہوتا ہے۔"      ( ١٩٩١ء، اردو نامہ، لاہور، جنوری، ٢٠ ) ٢ - اُکسانے والا، اُبھارنے والا، باعث، بہکانے والا۔ "خارج اور حادثات ہمیشہ خیال کا محرک ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٣٥ ) ٣ - نفسانی خواہشات کو ابھارنے والا، جنسی ترغیب دینے والا۔ "آم تو علاج الغربا کا بہترین نسخہ ہے، مقوی، مشتہی، مسکن، محرک۔

اصل لفظ: حرک
جنس: مذکر