محشر

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - وہ میدان جہاں قیامت برپا ہو گی، قیامت کے دن لوگوں کے اُٹھ کر جمع ہونے کی جگہ؛ (مجازاً) روز قیامت، حشر۔  گنہگار محشر میں یوں مطمئن ہیں شفاعت کا وہ اذن عام آگیا ہے      ( ١٩٨٨ء، مرج البحرین، ٩٨ ) ٢ - [ مجازا ]  وہ جگہ جہاں بہت سے لوگ جمع ہوں، ہجوم کی جگہ۔ "اس محشر کے بیان میں سوائے درد کے رکھا ہی کیا ہے جو پناہ گزینوں کے قافلوں کا محشر تھا۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٢٧ ) ٣ - [ مجازا ]  بڑا ہنگامہ، شور و غوغا، ہلچل، آشوب۔  وہ حجلۂ کیف، جس میں شب بھر تھا مطرب و مے سے ایک محشر      ( ١٩٢٦ء، سیف و سبو، ١١٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٤٢١ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  وہ جگہ جہاں بہت سے لوگ جمع ہوں، ہجوم کی جگہ۔ "اس محشر کے بیان میں سوائے درد کے رکھا ہی کیا ہے جو پناہ گزینوں کے قافلوں کا محشر تھا۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٢٧ )

اصل لفظ: حشر
جنس: مذکر