محضر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - روبرو، سامنے، حضور میں، بالمواجہ (فارسی میں اس معنی میں آیا ہے)۔ (فرہنگ آصفیہ) ١ - حاضر ہونے کی جگہ۔ (اسٹین گاس؛ جامع اللغات) ٢ - وہ کاغذ جو قاضی کی لہر سے مزین کیا گیا ہو، قبالۂ شرعی، حکم نامہ شرعی۔ "ایک محضر کے ذریعے ہر قمری مہینے کی پہلی تاریخ کو محبوب الٰہی کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔"      ( ١٩٥٠ء، بزم صوفیہ، ٢٤٤ ) ٣ - وہ نوشتہ جس پر کسی دعوے کے ثابت کرنے کے لیے لوگ اپنی مہریں لگائیں یا دستخط کریں، وہ کاغذ جس پر لوگ کسی بات کی شہادت لکھیں، عرضداشت۔ "کمبل پوش کی" عجائبات فرنگ" فارسی میں بھی لکھا گیا تھا، فارسی میں اس کا عنوان "تاریخ یوسفی" ہے اور اس وقت اس کا محضر بفرد خطی نسخہ ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال (کلکتہ) کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔"      ( ١٩٩٧ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، ٢٦ ) ٤ - فطرت، طبیعت، طینت، مزاج۔  باتیں کل سوچ کر سمجھ کر کرتا ہے وہ مردِ نیک محضر      ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ٩٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم' ہے۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت اور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٧٠٥ء کو "بیاض مراثی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - وہ کاغذ جو قاضی کی لہر سے مزین کیا گیا ہو، قبالۂ شرعی، حکم نامہ شرعی۔ "ایک محضر کے ذریعے ہر قمری مہینے کی پہلی تاریخ کو محبوب الٰہی کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔"      ( ١٩٥٠ء، بزم صوفیہ، ٢٤٤ ) ٣ - وہ نوشتہ جس پر کسی دعوے کے ثابت کرنے کے لیے لوگ اپنی مہریں لگائیں یا دستخط کریں، وہ کاغذ جس پر لوگ کسی بات کی شہادت لکھیں، عرضداشت۔ "کمبل پوش کی" عجائبات فرنگ" فارسی میں بھی لکھا گیا تھا، فارسی میں اس کا عنوان "تاریخ یوسفی" ہے اور اس وقت اس کا محضر بفرد خطی نسخہ ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال (کلکتہ) کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔"      ( ١٩٩٧ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، ٢٦ )

اصل لفظ: حضر