محظوظ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بہرہ مند، حصہ پانے والا صاحب نصیب۔  سدا فضل سے حق کے محظوظ رہیے سدا فصل سے حق کے محظوظ رہیے      ( ١٦٩٩ء، نورنامہ، شاہ عنایت، ٣ ) ٢ - حصے سے ملنے والا، حاصل ہونے والا۔  فغاں رضا یہی چاہے ہے ہوجیے تسلیم نصیب عیش ہوا یا کہ غم ہوے محظوظ      ( ١٧٧٢ء، فغاں، د (انتخاب)، ١٠٤ ) ٣ - خوش، مسرور، شاداں، لطف اندوز، جسے لطف حاصل ہو۔ "اندر سے ایک ڈائری نما بیاض اٹھا لائے، چیدہ چیدہ کی، ایک چیزیں سنائیں، میں بے حد محظوظ ہوا۔"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری: حیات و خدمات، ٧٣٤:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٩٩ء کو "نورنامہ، شاہ عنایت" میں مستعمل ہوا۔

مثالیں

٣ - خوش، مسرور، شاداں، لطف اندوز، جسے لطف حاصل ہو۔ "اندر سے ایک ڈائری نما بیاض اٹھا لائے، چیدہ چیدہ کی، ایک چیزیں سنائیں، میں بے حد محظوظ ہوا۔"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری: حیات و خدمات، ٧٣٤:٢ )

اصل لفظ: حظظ
جنس: مذکر