محقر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - حقیر سمجھا گیا، ذلیل کیا گیا؛ حقیر، ذلیل، کم حیثیت۔  سمجھتا ہوں یہ ہدیہ ہے محقر اگر پوچھے گا کوئی روز محشر      ( ١٩٣٥ء، عزیز لکھنوی، صحیفۂ ولا، ج ) ٢ - کم، تھوڑا، قلیل۔ "پندرہ ہزار روپے. جو افلاس کے ہاتھوں تنگ ہو چنداں محقر نہیں۔"      ( ١٩٤٢ء، مقالات محمود شیرانی، ١٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٣٨ء کو "بستان حکمت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - کم، تھوڑا، قلیل۔ "پندرہ ہزار روپے. جو افلاس کے ہاتھوں تنگ ہو چنداں محقر نہیں۔"      ( ١٩٤٢ء، مقالات محمود شیرانی، ١٤٨ )

اصل لفظ: حقر
جنس: مذکر