محمل
معنی
١ - اٹھانے کا آلہ، آلج باربرداری۔ (ماخوذ: اسٹین گاس؛ فرہنگ عامرہ) ٢ - ایک قسم کی ڈولی جو اونٹ پر باندھتے ہیں، اونٹ کا ہودہ، اونٹ پر کسی جانے والی کاٹھی، چھتری دار کجا وہ جسے رحل بھی کہتے ہیں۔ محمل کے ساتھ ساتھ میں آ تو گیا مگر وہ بات شہر میں تو نہیں ہے جو بن میں تھی ( ١٩٩٠ء، شاید، ٧٦ ) ٣ - کسی معنی کے صادق آنے کا محل، معنی۔ "بہرحال ان بزرگوں کے کلام کا صحیح محمل یہ ہوسکتا ہے۔" ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، طبقات، ٣٠٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم'ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٠ء کو "کشف الوجود" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - کسی معنی کے صادق آنے کا محل، معنی۔ "بہرحال ان بزرگوں کے کلام کا صحیح محمل یہ ہوسکتا ہے۔" ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، طبقات، ٣٠٨ )