محکمات

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - قرآن مجید کی وہ آیتیں جن کے معنی صریح ہوں اور ان میں تاویل کی ضرورت نہ ہو۔ "قرآن مجید میں جو آیات محکمات ہیں ان کو خدا نے ام الکتاب فرمایا ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، مقالات شبلی، ٨٠:٨ ) ٢ - صاف و صریح امور یا باتیں۔  اب سرنگوں ہے کتنے بزرگان فن کی بات اب پیش محکماتِ گریزاں ہیں ظنّیات      ( ١٩٥٨ء، شہر آزر، ٢٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'محکم' کے ساتھ 'ات' بطور لاحقۂ جمع لگانے سے 'مُحْکَمات' بنا۔ اردو میں بطور 'اسم' مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٩ء کو "مقالات حالی" میں مستعمل ہوا۔

مثالیں

١ - قرآن مجید کی وہ آیتیں جن کے معنی صریح ہوں اور ان میں تاویل کی ضرورت نہ ہو۔ "قرآن مجید میں جو آیات محکمات ہیں ان کو خدا نے ام الکتاب فرمایا ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، مقالات شبلی، ٨٠:٨ )

اصل لفظ: حکم
جنس: مؤنث