مخاطب

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - کلام کرنے والا، کسی سے بات کرنے والا، سامنے بولنے والا، خطاب کرنے والا؛ متوجہ۔ "اس کا مخاطب رک گیا اور سر سے پیر تک سوال کرنے والا کا جائزہ لیا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ١٠٧ ) ٢ - عتاب کرنے والا، غصہ ہونے والا۔ (فرہنگ آصفیہ)۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٥٤ء کو "دیوان ذوق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کلام کرنے والا، کسی سے بات کرنے والا، سامنے بولنے والا، خطاب کرنے والا؛ متوجہ۔ "اس کا مخاطب رک گیا اور سر سے پیر تک سوال کرنے والا کا جائزہ لیا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ١٠٧ )

اصل لفظ: خطب