مختوم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مہر لگایا گیا، (مجازاً) آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔  محمدۖ ہیں مختوم، خاتم ہے اللہ محمدۖ ہیں مقسوم، قاسم ہے اللہ      ( ١٧٩٧ء، دیوان شاہ عالم (ق) ٢٥٥ ) ٢ - بند کیا ہوا، سر بہ مہر، مقفل۔  حسن مختوم خوب تھا بابا کاش حصے میں اپنے آسکتا      ( ١٩٧٨ء، ابن انشاء، دل وحشی، ٥٨ ) ٤ - وہ جو ختم یا تمام ہو گیا ہو۔  اک شکل سے وہ واجب و ممکن کا ہے مقصود وصف اوس کے ہیں مختوم نہ ذات اوسکی ہے محدود      ( ١٨٨٩ء، صغیر بلگرامی، میلاد معصومین، ٣٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'صفت' ہے اردو میں بطور 'صفت' مستعمل ہے۔ ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: ختم