مدافعت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دفع کرنا، دفعیہ، دفاع، روک، بچاؤ، مزاحمت۔ "۔"یہ بڑی صائب بات ہے کہ ہم پہل نہ کریں لیکن مدافعت کا حق محفوظ رکھیں۔"      ( ١٩٩٩ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٣ ) ٢ - تائید، حمایت۔ "زبان و بیان کے بہت سے عالموں نے . رسم الخط کی مدافعت میں نہایت کارآمد مضامین لکھے۔"١٩٤ء، نگار، کراچی، ستمبر، ٧ ٣ - صفائی پیش کرنا، عذر خواہی۔ "ان کے اسلوب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معذرت اور مدافعت کے قائل نہیں۔"      ( ١٩٥٣ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ٢٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم' ہے اردو میں بطور 'اسم' مستعمل ہے۔ ١٨٤٥ء کو "علم الفرائض" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دفع کرنا، دفعیہ، دفاع، روک، بچاؤ، مزاحمت۔ "۔"یہ بڑی صائب بات ہے کہ ہم پہل نہ کریں لیکن مدافعت کا حق محفوظ رکھیں۔"      ( ١٩٩٩ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٣ ) ٢ - تائید، حمایت۔ "زبان و بیان کے بہت سے عالموں نے . رسم الخط کی مدافعت میں نہایت کارآمد مضامین لکھے۔"١٩٤ء، نگار، کراچی، ستمبر، ٧ ٣ - صفائی پیش کرنا، عذر خواہی۔ "ان کے اسلوب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معذرت اور مدافعت کے قائل نہیں۔"      ( ١٩٥٣ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ٢٣ )

اصل لفظ: دفع
جنس: مؤنث