مداومت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہمیشگی، دوام، ثبات، بقا، استمرار، قیام۔ "انھوں نے مجھے اس کی ہمت دلائی ہے کہ میں تم سے تمھاری توجہات کی مداومت کی بقا کی التجا کروں۔"      ( ١٩٠٨ء، خیالستان، ١٨٧ ) ٢ - ورد، ہمیشہ کا معمول۔ "وصیت کی مجھ کو میرے والد نے . مداومت یعنی مغنی کی ہر روز گیارہ سو بار۔"      ( ١٨٤٢ء، کتاب معدن الجواہر، ١١ ) ٣ - ہمیشہ کرنا، کسی عمل پر قائم رہنا، پابندی سے کرنا۔ "لسان الغیب حضرت حافظ شیرازی نے وظیفے کی مداومت پر ایک قطعی حکم لگا دیا تھا۔"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'مداومۃ' کی تحریف شدہ شکل 'مداومت' ہے۔ اردو میں بطور 'اسم' مستعمل ہے۔ ١٨٤٨ء کو "تاریخ ممالک چین (ترجمہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہمیشگی، دوام، ثبات، بقا، استمرار، قیام۔ "انھوں نے مجھے اس کی ہمت دلائی ہے کہ میں تم سے تمھاری توجہات کی مداومت کی بقا کی التجا کروں۔"      ( ١٩٠٨ء، خیالستان، ١٨٧ ) ٢ - ورد، ہمیشہ کا معمول۔ "وصیت کی مجھ کو میرے والد نے . مداومت یعنی مغنی کی ہر روز گیارہ سو بار۔"      ( ١٨٤٢ء، کتاب معدن الجواہر، ١١ ) ٣ - ہمیشہ کرنا، کسی عمل پر قائم رہنا، پابندی سے کرنا۔ "لسان الغیب حضرت حافظ شیرازی نے وظیفے کی مداومت پر ایک قطعی حکم لگا دیا تھا۔"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٥ )

جنس: مؤنث